معراج ، شب معراج اور اہتمام عبادت
قرآن وسنت کی روشنی میں:
اعتراضات:
قرآن وسنت کی روشنی میں:
اعتراضات:
(١) زید کہتا ہے کہ حضور ﷺ کو معراج تو ہوئی ہے لیکن کس مہینے میں ہوئی؟ کس تاریخ کو ہوئی ؟ اس سلسلے میں متعدد اقوال ہیں اور کسی قول کی تعیین بھی نہیں ؛ اس لیے یہ کہنا کہ ستائیسویں رجب ہی کو معراج ہوئی ، صحیح نہیں ۔
(٢) ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنا اور رات میں عبادت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔
(٣) ستائیسویں شب میں عبادات کا اہتمام نہ تو حضور نے کیا اور نہ ہی صحابہ نے۔
(۴) حضرت عمر فاروق نے اپنے زمانے میں ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنے والوں کے روزے توڑوائے ، جس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنا صحیح نہیں ۔
ان اعتراضات کو ذہن نشیں کرکے مضمون کا مطالعہ فرمائیں ۔
آقا کریم -ﷺ- کا شب معراج مختصر سے وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے جانا نص قرآنی اور وہاں سے لا مکاں تک جانا متعدد احادیث صحیحہ مشہورہ متواترہ سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
((سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ)) (بنی اسرائیل : ۱۷)
((پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصا (بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بےشک وہ سنتا دیکھتا ہے)) (کنزالایمان)
شان نزول :
امام ابو حیان اندلسی لکھتے ہیں کہ جب نبی پاک -ﷺ- نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جانا بیان کیا اور کفار نے اس کی تکذیب کی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔
حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- اس آیت کے تحت ”تفسیر خزائن العرفان“ میں ارشاد فرماتے ہیں :
معراج شریف نبی کریم -ﷺ- کا ایک جلیل معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اور اس سے حضور -ﷺ- کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوق الہی میں آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں ۔ نبوت کے بارہویں سال سید عالم -ﷺ- معراج سے نوازے گئے۔مہینہ میں اختلاف ہے؛ مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی ۔ مکہ مکرمہ سے حضور پرنور -ﷺ-کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے سے حصہ میں تشریف لے جانا نص قرآنی سے ثابت ہے ، اس کا منکر کافر ہے ۔ اور آسمانوں کی سیر اور منازل قرب میں پہنچنا احادیث صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حد تواتر کے قریب پہنچ گئی ہے ، اس کا منکر گمراہ ہے ۔ معراج شریف بحالت بیداری جسم وروح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی ، یہی جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحاب رسول ﷺ کی کثیر جماعتیں اور حضور ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام اسی کے معتقد ہیں ۔ نصوص آیات اور احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ۔ بیوقوف فلسفیوں کے فاسد خیالات و گمان ، محض باطل ہیں ۔ قدرت الہی کے پختہ یقین رکھنے والوں کے سامنے وہ تمام شبہات محض بے حقیقت ہیں ۔ (بنی اسرائیل : ۱۷ ، تحت الآیۃ المذکورۃ )
معراج شریف کے متعلق احادیث شریفہ :
معراج رسول -ﷺ- کے متعلق بخاری ، مسلم ، دلائل النبوۃ ، مسند احمد اور مسند بزار میں متعدد احادیث شریفہ موجود ہیں ۔ طوالت کے خوف سے یہاں ان کا ذکر ترک کیا جا رہا ہے ، ان تمام احادیث کریمہ کو خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے اپنی کتاب ”الآیۃ الکبریٰ في شرح قصۃ الإسراء“ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ، اہل شوق کو مذکورہ کتاب کی جانب رجوع کرنا چاہیے ۔
معراج پاک اقوال امت کی روشنی میں :
(۱) امام ابو جعفر طحاوی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- معراج کے متعلق رقم طراز ہیں :
”معراج حق ہے ، حضور -ﷺ- کو بیداری کے عالم میں جسم اقدس کے ساتھ آسمان تک ، پھر وہاں سے جس قدر بلندی تک اللہ نے چاہا معراج کا شرف بخشا“ ۔ (العقیدۃ الطحاویۃ)
(۲) امام نجم الدین عمر نسفی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں :
”نبی کریم -ﷺ- کو حالت بیداری میں اور جسم اقدس کے ساتھ آسمان ، پھر وہاں سے جس قدر بلندی تک اللہ نے چاہا معراج عطا فرمائی“ ۔ (عقائدنسفی)
(۳) حضرت ملا علی قاری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ-، امام اعظم - -کے الفاظ ”خبر المعراج حق“ کی شرح میں لکھتے ہیں:
”آپ -ﷺ- کو بیداری کے عالم میں آسمان پر مشیئت الہی کے مطابق بلند مقامات تک معراج حاصل ہوئی“ ۔ (منح الروض الازھر)
(۴) علامہ سعد الدین تفتازانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ”ثم ما شاء اللہ“ کے الفاظ کی حکمت یوں لکھتے ہیں :
”یہ اسلاف کے اقوال کی طرف اشارہ ہے : بعض کے یہاں جنت ، بعض کے یہاں عرش،بعض کے یہاں فوق العرش اور بعض کے یہاں طرف عالَم تک معراج ہوئی“ ۔ (شرح عقائد نسفی)
تاریخ معراج :
مذکورہ بالا تمام دلائل سے یہ تو واضح ہو گیا کہ آقا کریم -ﷺ- کو معراج کا شرف حاصل ہوا ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ شرف حاصل کب ہوا ؟ تو اس سلسلے میں علماے کرام کی آرا مختلف ہیں جیسا کہ علامہ غلام رسول سعیدی -- اپنی مایہ ناز تفسیر ”تبیان القرآن“ میں لکھتے ہیں کہ حضرت ملا علی قاری -- فرماتے ہیں کہ سید جمال الدین محدث نے ”روضۃ الاحباب“ میں لکھا ہے کہ:
”واقعۂ معراج ، ماہ رجب کی ستائیس تاریخ کو ہوا جیسا کہ حرمین شریفین میں اسی پر عمل ہوتا ہے“ ۔
ایک قول یہ ہے کہ معراج ربیع الآخر میں ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ رمضان میں ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ شوال میں ہوئی ۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد اقوال ہیں ۔ (تبیان القرآن)
حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ”تفسیر خزائن العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ :
”مہینہ میں اختلاف ہے مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی “۔
شب معراج کی عبادت :
شب بیداری کے استحباب اور اس کے فوائد و برکات پر علماے اسلام کا کوئی اختلاف نہیں ، حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا حکم قرآن کریم اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے ۔
صحابہ کرام ، تابعین عظام اور پاکان امت کی مبارک زندگی شب بیداری میں گزری ۔ احادیث کریمہ میں جہاں شب قدر اور شب براءت کے فضائل وارد ہیں وہیں شب معراج کے فضائل بھی بیان ہوئے ہیں ۔ ذیل میں چند احادیث کریمہ درج کیے جا رہے ہیں ۔ ملاحظہ ہوں :
(۱) حضرت انس بن مالک -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک -ﷺ- نے فرمایا :
”ماہ رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے حق میں سو سال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے ۔ تو جو شخص اس رات بارہ رکعات پڑھتا ہے اس طرح کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھے ، ہر رکعت کے بعد قعدہ کرے ، اخیر میں سلام پھیرے ، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد سو مرتبہ ”سبحان اللہ ، والحمد للہ ولا إلہ واللہ أکبر“ پڑھے ، سو مرتبہ استغفار کرے ، سو مرتبہ آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پاک پڑھے اور اپنے حق میں دنیا و آخرت کی بھلائی سے متعلق جو چاہے دعا کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا ۔ البتہ کسی نافرمانی والے کام میں دعا کرے تو یہ دعا مقبول نہیں ہوگی“ ۔ (شعب الایمان ، جامع الکبیر)
(۲) حضرت سلمان فارسی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ آقا کریم -ﷺ- نے فرمایا :
”ماہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایک ایسی رات ہے جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات قیام کیا تو گویا اس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال شب بیداری کی ۔ اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے “۔ (شعب الایمان ، جامع کبیر ، در منثور ، کنز العمال)
(۳) حضرت انس -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ حضور -ﷺ- نے ارشاد فرمایا :
”جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے ۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے ۔ جو رجب میں ایک دن روزہ رکھے گا ؛ اللہ رب العزت اسے اس نہر سے سیراب فرمائے گا“ ۔ (شعب الایمان)
(۴) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- فرماتی ہیں کہ:
”رجب وہ باعظمت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا ثواب کئی گنا زیادہ دیتا ہے ۔ جس نے اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھا تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے ۔ اور جس نے اس ماہ میں سات دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔ اور جس نے اس ماہ میں آٹھ دن روزے رکھے ؛ اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ اور اس ماہ میں دس دن کے روزے رکھنے والا ، اللہ سے جو مانگے گا ؛ وہ اسے عطا کرے گا ۔ اور جو اس ماہ پندرہ روزے رکھے تو آسمانی منادی آواز دیتا ہے : اے روزے دار ! تیرے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ۔ اب نیک عمل شروع کر دو ۔ جو زیادہ اچھے عمل کرے گا ؛ اسے زیادہ ثواب دیا جائے گا“ ۔ (ما ثبت بالسنۃ بحوالہ شعب الایمان)
(۵) حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے فرمایا کہ حضور -ﷺ- نے ارشاد فرمایا :
ماہ رجب کے ستائیسویں دن جو شخص روزہ رکھے اس کے لیے ساٹھ مہینے روزہ رکھنے کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق)
(۶) حضرت حسن بصری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں کہ:
حضرت عبداللہ بن عباس -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ماہ رجب کے ستائیسویں دن معتکف ہو جاتے اور ظہر تک نماز پڑھتے رہتے ۔ جب نماز ظہر ادا فرماتے تو تھوڑا سا ہٹ کر چار رکعت نماز پڑھتے ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ فلق و ناس ایک ایک بار پڑھتے اور سورۂ قدر تین بار اور سورۂ اخلاص پچاس بار پڑھتے ۔ پھر نماز عصر تک دعا کرتے رہتے اور فرماتے :
”آج کے دن حضور -ﷺ- کا عمل ایسا ہی ہوتا“۔ (ایضا)
مذکورہ بالا تمام احادیث شریفہ سے یہ واضح ہوگیا کہ معراج کی رات ، عظمت و رفعت اور عبادت وریاضت والی رات ہے ۔ اس رات قیام کرنے والوں کے متعلق احادیث کریمہ میں بےشمار بشارتیں موجود ہیں ۔ ان عظیم بشارتوں کےہوتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابۂ کرام اس مقدس ومتبرک رات کو یوں ہی گزار دیے ہوں ؛ حالاں کہ وہ کامل طور پر اس آیت کریمہ کے مصداق ہیں :
((تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ)) (السجدۃ: ۳۲)
((اُن کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور اُمید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں)) (کنزالایمان)
اس لیے محض قیاس کا سہارا لے کر یہ کہنا کہ اس شب میں عبادت کرنا صحیح نہیں ؛ کیوں کہ یہ بدعت ہے ۔ آقا کریم -ﷺ- اور صحابہ کرام نے اس کا اہتمام نہیں کیا ، کسی صورت صحیح نہیں ؛ اس لیے کہ حضور -ﷺ- نے شب معراج ، سفر معراج سے قبل اور سفر معراج کے درمیان نماز ادا فرمائی ۔ براق پر تشریف رکھنے سے پہلے ، حضرت ام ہانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- کے گھر میں نماز ادا فرمائی ۔ اور بیت المقدس میں تمام انبیا -علیہم الصلاۃ والسلام- کی امامت فرمائی ۔ علاوہ ازیں اوپر حضرت عبداللہ بن عباس - رضی اللہ تعالیٰ عنہما- کی عبادت اور آپ کے ارشاد کا ذکر ہوا کہ آج کے دن حضور -ﷺ- کا عمل مبارک ایسا ہی ہوتا ۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس شب عبادت کرنا آقا کریم -ﷺ- اور صحابہ کرام -رضی اللہ تعالیٰ عنہم- کی سنت ہے ؛ اس لیے ایسوں کو احتیاط سے کام لین
ا چاہیے ۔ اللہ رب العزت ایسے لوگوں کو ہدایت دے ۔ آمین۔
امکان غالب ہے کہ شب معراج ، اہتمام عبادت کے متعلق پیش کردہ احادیث کریمہ کا کوئی یہ کہہ کر انکار کر دے کہ یہ ضعیف ہیں ، مرجوح ہیں ، لائق اعتبار نہیں ، صحیح اور راجح احادیث کریمہ پیش کیا جائے ؛ اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے ۔
فضائل اعمال میں ضعیف احادیث شریفہ بھی لائق استناد:
محدثین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایتیں بھی لائق اعتبار وقابل احتجاج ہیں ۔ چناں چہ امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی دمشقی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ-فرماتے ہیں :
”و قد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف في فضائل الأعمال“ ۔ (شرح الأربعین للنوویۃ)
ترجمہ: ”علماے امت نے فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کو بالاتفاق جائز کہا ہے “۔
خلاصہ :
(۱) آقا کریم -ﷺ- کا معراج میں تشریف لے جانا قرآن کریم ، احادیث شریفہ اور اقوال امت سے ثابت ہے ۔
(۲) تاریخ معراج میں متعدد روایتوں کے باوجود علماے کرام نے ماہ رجب کی ستائیسویں شب کو راجح قرار دیا ہے ۔
(۳) شب معراج ، عبادت و ریاضت ، متعدد احادیث کریمہ ، سنت رسول -ﷺ- اور سنت صحابہ سے ثابت ہے ۔
(۴) میری معلومات میں ایسی کوئی روایت نہیں کہ حضرت عمر فاروق -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے معراج کے دن روزہ رکھنے والوں کے روزے توڑوائے ہوں ۔ اگر ایسی کوئی روایت ہے تو اسے بحوالہ پیش کیا جائے ؛ ان شاء اللہ اس کا بھی جواب دیا جائے گا ۔
باری تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور اسے نافع انام بنائے ۔ واللہ المستعان وعلیہ التکلان وصلی اللہ علی خیر الأنام وعلی آلہ و أصحابہ الکرام ۔
نوٹ :
اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے :
(۱) خزئن العرفان از حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(۲) تفسیر تبیان القرآن از علامہ غلام رسول سعیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(۳) معراج مصطفیٰ ﷺ از مفتی محمد خان قادری
(۴) شب معراج : فضائل وعبادت از مفتی ضیاء الدین نقشبندی
(۵) انوار البیان از علامہ انوار احمد قادری
۵؍رجب المرجب ۱۴۳۹ھ عبدالقدوس مصباحی
۲۳؍مارچ ۲۰۱۸ء دارالعلوم فیض رضا ، شاہین نگر ، حیدرآباد ، تلنگانہ