Monday, April 5, 2021

درس القرآن الکریم

 🌹درس القرآن الكريم🌹

حامدا ومصليا ومسلما

بسم الله الرحمن الرحيم:

آيت كريمہ:

«بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ»

ترجمه كنزالعرفان:

«اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والا»

تفسير صراط الجنان:

{بسم الله: اللہ کے نام سے شروع}

علامہ احمد صاوی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں: قرآن مجید کی ابتدا "بسم الله" سے اس لیے کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس کی پیروی کرتے ہوئے ہر اچھے کام کی ابتدا "بسم الله" سے کریں۔

[صاوی،الفاتحۃ، ۱/۱۵]

اور حدیث پاک میں بھی اچھے اور اہم کام کی ابتدا "بسم الله" سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، چناں چہ حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، حضور پرنور -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے ارشاد فرمایا:

"جس اہم کام کی ابتدا "بسم الله الرحمن الرحیم" سے نہ کی گئی تو وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔"

[کنز العمال، کتاب الاذ کار، الباب السابع فی تلاوۃ القران وفضائلہ، الفصل الثانی۔۔۔الخ، ۱/۲۷۷، الجزءالاول، الحدیث:٢٤٨٨]

  لہذا تمام مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ ہر نیک اور جائز کام کی ابتدا "بسم الله الرحمن الرحیم" سے کریں، اس کی بہت برکت ہے۔

{الرحمن الرحیم: جو بہت مہربان رحمت والا ہے}

امام فخر الدین رازی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو "رحمن" اور "رحیم" فرمایا تو یہ اس کی شان سے بعید ہے کہ وہ رحم نہ فرمائے۔ مروی ہے کہ ایک سائل نے بلند دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ مانگا تو اسے تھوڑا سا دے دیا گیا، دوسرے دن وہ ایک کلہاڑا لے کر آیا اور دروازے کو توڑنا شروع کر دیا۔اس سے کہا گیا کہ تو ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: تو دروازے کو اپنی عطا کے لائق کر یا اپنی عطا کو دروازے کے لائق بنا۔ اے ہمارے اللہ! -عزوجل- رحمت کے سمندروں کو تیری رحمت سے وہ نسبت ہے جو ایک چھوٹے سے ذرے کو تیرے عرش سے نسبت ہے اور تو نے اپنی کتاب کی ابتدا میں اپنے بندوں پر اپنی رحمت کی صفت بیان کی؛ اس لیے ہمیں اپنی رحمت اور فضل سے محروم نہ رکھنا۔"

[تفسیر کبیر، الباب الحادی عشر فی بعض النکت المستخرجۃ الخ، ۱/۱۵۳]

"بسم الله" سے متعلق چند شرعی مسائل:

علماے کرام نے "بسم اللہ" سے متعلق بہت سے شرعی مسائل بیان کیے ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

[1] جو "بسم الله" ہر سورت کے شروع میں لکھی ہوئی ہے، یہ پوری آیت ہے اور جو "سورۂ نمل" کی آیت نمبر 30/ میں ہے؛ وہ اس آیت کا ایک حصہ ہے۔

[2] "بسم الله" ہر سورت کے شروع کی آیت نہیں ہے بلکہ پورے قرآن کی ایک آیت ہے جسے ہر سورت کے شروع میں لکھ دیا گیا تاکہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے، اسی لیے سورت کے اوپر امتیازی شان میں "بسم الله" لکھی جاتی ہے، آیات کی طرح ملا کر نہیں لکھتے اور امام، جہری نمازوں میں "بسم الله" آواز سے نہیں پڑھتا، نیز حضرت جبریل -علیہ السلام- جو پہلی وحی لائے؛ اس میں "بسم الله" نہ تھی۔

[3] تراویح پڑھانے والے کو چاہیے کہ وہ کسی ایک سورت کے شروع میں "بسم الله" آواز سے پڑھے؛ تاکہ ایک آیت رہ نہ جائے۔

[4] تلاوت شروع کرنے سے پہلے "اعوذ بالله من الشیطن الرجیم" پڑھنا سنت ہے، لیکن اگر شاگرد، استاد سے قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں۔

[5] سورت کی ابتدا میں "بسم الله" پڑھنا سنت ہے؛ ورنہ مستحب ہے۔

[6] اگر "سورۂ توبہ" سے تلاوت شروع کی جائے تو "اعوذ باللہ" اور "بسم الله" دونوں کو پڑھا جائے، اور اگر تلاوت کے دوران سورۂ توبہ آ جائے تو "بسم الله" پڑھنے کی حاجت نہیں۔

Thursday, January 23, 2020

پیغام حدیث

🌹درس الحديث الشريف🌹

حامدا ومصليا ومسلما

بسم الله الرحمن الرحيم

حديث نمبر:(١)

عن أمير المؤمِنين أبي حَفْصٍ عمرَ بنِ الخطابِ بنِ نُفَيْلِ بنِ عبدِ العُزّى بن رياحِ بنِ عبدِ اللهِ بن قُرْطِ بن رَزاحِ بنِ عدِي بنِ كعب بنِ لُؤَيِّ بنِ غالبٍ القُرشِيِّ العَدويِّ -رضي الله عنه- قالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- يقُولُ:
((إنّمَا الأَعْمَالُ بالنِّيّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هجرتُه إلى اللّٰه ورسوله، فهجرتُه إلى الله ورسوله، ومن كانت هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصيبُهَا، أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكَحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلى مَا هَاجَرَ إِلَيْه))
[رياض الصالحين، باب الإخلاص وإحضار النية إلخ، رقم الحديث:١]

[ترجمه] امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
((اعمال نیت ہی پر ہیں، ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی، جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ اور جس کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت کے لیے ہو جس سے وہ نکاح کرنا چاہے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی))

Sunday, September 22, 2019

🌹درس الحديث الشريف🌹

حامدا ومصليا ومسلما

بسم الله الرحمن الرحيم

حديث نمبر:(١)

عن أَبي هريرة -رضي الله عنه- عن النَّبيّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ:
((مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلمَةٌ لأَخِيه، مِنْ عِرضِهِ أَوْ مِنْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ قبْلَ أنْ لا يَكُونَ دِينَار وَلا دِرْهَمٌ؛ إنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلمَتِهِ، وَإنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيهِ))
[رياض الصالحين، باب تحريم الظلم الخ، رقم الحديث:٢١٠]

[ترجمه] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے ارشاد فرمایا:
((جس شخص نے اپنے کسی بھائی پر اس کی عزت وغیرہ کے متعلق کوئی ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے مطابق وہی لے لیا جائے گا، اور اگر نامہ اعمال میں کوئی نیک عمل نہ ہو تو اس کے مظلوم ساتھی کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیے جائیں گے))

Friday, March 29, 2019

معراج، شب معراج اور اہتمام عبادت قرآن وسنت کی روشنی میں از عبدالقدوس مصباحی۔

معراج ، شب معراج اور اہتمام عبادت
قرآن وسنت کی روشنی میں:
اعتراضات:
(١) زید کہتا ہے کہ حضور ﷺ کو معراج تو ہوئی ہے لیکن کس مہینے میں ہوئی؟ کس تاریخ کو ہوئی ؟ اس سلسلے میں متعدد اقوال ہیں اور کسی قول کی تعیین بھی نہیں ؛ اس لیے یہ کہنا کہ ستائیسویں رجب ہی کو معراج ہوئی ، صحیح نہیں ۔
(٢) ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنا اور رات میں عبادت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔
(٣) ستائیسویں شب میں عبادات کا اہتمام نہ تو حضور نے کیا اور نہ ہی صحابہ نے۔
(۴)  حضرت عمر فاروق  نے اپنے زمانے میں ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنے والوں کے روزے توڑوائے ، جس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنا صحیح نہیں ۔
ان اعتراضات کو ذہن نشیں کرکے مضمون کا مطالعہ فرمائیں ۔
آقا کریم -ﷺ- کا شب معراج مختصر سے وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے جانا نص قرآنی اور وہاں سے لا مکاں تک جانا متعدد احادیث صحیحہ مشہورہ متواترہ سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
((سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ)) (بنی اسرائیل : ۱۷)
((پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصا (بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بےشک وہ سنتا دیکھتا ہے)) (کنزالایمان)
شان نزول :
امام ابو حیان اندلسی لکھتے ہیں کہ جب نبی پاک -ﷺ- نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جانا بیان کیا اور کفار نے اس کی  تکذیب کی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔
حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- اس آیت کے تحت ”تفسیر خزائن العرفان“ میں ارشاد فرماتے ہیں :
معراج شریف نبی کریم -ﷺ- کا ایک جلیل معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔  اور اس سے حضور -ﷺ- کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوق الہی میں آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں ۔ نبوت کے بارہویں سال سید عالم -ﷺ- معراج سے نوازے گئے۔مہینہ میں اختلاف ہے؛ مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی ۔  مکہ مکرمہ سے حضور پرنور -ﷺ-کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے سے حصہ میں تشریف لے جانا نص قرآنی سے ثابت ہے ، اس کا منکر کافر ہے ۔ اور آسمانوں کی سیر اور منازل قرب میں پہنچنا احادیث صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حد تواتر کے قریب پہنچ گئی ہے ، اس کا منکر گمراہ ہے ۔ معراج شریف بحالت بیداری جسم وروح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی ، یہی جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحاب رسول ﷺ کی کثیر جماعتیں اور حضور ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام اسی کے معتقد ہیں ۔ نصوص آیات اور احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ۔ بیوقوف فلسفیوں کے فاسد خیالات و گمان ، محض باطل ہیں ۔ قدرت الہی کے پختہ یقین رکھنے والوں کے سامنے وہ تمام شبہات محض بے حقیقت ہیں ۔ (بنی اسرائیل : ۱۷ ، تحت الآیۃ  المذکورۃ )
معراج شریف کے متعلق احادیث شریفہ :
معراج رسول -ﷺ- کے متعلق بخاری ، مسلم ، دلائل النبوۃ ، مسند احمد اور مسند بزار میں متعدد احادیث شریفہ موجود ہیں ۔ طوالت کے خوف سے یہاں ان کا ذکر ترک کیا جا رہا ہے ، ان تمام احادیث کریمہ کو خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے اپنی کتاب ”الآیۃ الکبریٰ في شرح قصۃ الإسراء“ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ، اہل شوق کو مذکورہ کتاب کی جانب رجوع کرنا چاہیے ۔
معراج پاک اقوال امت کی روشنی میں :
(۱) امام ابو جعفر طحاوی  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- معراج کے متعلق رقم طراز ہیں :
”معراج حق ہے ، حضور -ﷺ- کو بیداری کے عالم میں جسم اقدس کے ساتھ آسمان تک ، پھر وہاں سے جس قدر بلندی تک اللہ نے چاہا معراج کا شرف بخشا“ ۔ (العقیدۃ الطحاویۃ)
(۲) امام نجم الدین عمر نسفی  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں :
”نبی کریم -ﷺ- کو حالت بیداری میں اور جسم اقدس کے ساتھ آسمان ، پھر وہاں سے جس قدر بلندی تک اللہ نے چاہا معراج عطا فرمائی“ ۔ (عقائدنسفی)
(۳) حضرت ملا علی قاری -رضی اللہ تعالیٰ عنہ-، امام اعظم - -کے الفاظ ”خبر المعراج حق“ کی شرح میں لکھتے ہیں:
”آپ -ﷺ- کو بیداری کے عالم میں آسمان پر مشیئت الہی کے مطابق بلند مقامات تک معراج حاصل ہوئی“ ۔ (منح الروض الازھر)
(۴) علامہ سعد الدین تفتازانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ”ثم ما شاء اللہ“ کے الفاظ کی حکمت یوں لکھتے ہیں :
”یہ اسلاف کے اقوال کی طرف اشارہ ہے : بعض کے یہاں جنت ، بعض کے یہاں عرش،بعض کے یہاں فوق العرش اور بعض کے یہاں طرف عالَم تک معراج ہوئی“ ۔ (شرح عقائد نسفی)
تاریخ معراج :
مذکورہ بالا تمام دلائل سے یہ تو واضح ہو گیا کہ آقا کریم -ﷺ- کو معراج کا شرف حاصل ہوا ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ شرف حاصل کب ہوا ؟ تو اس سلسلے میں علماے کرام کی آرا مختلف ہیں جیسا کہ علامہ غلام رسول سعیدی -﷫- اپنی مایہ ناز تفسیر ”تبیان القرآن“ میں لکھتے ہیں کہ حضرت ملا علی قاری -﷫- فرماتے ہیں کہ سید جمال الدین محدث نے ”روضۃ الاحباب“ میں لکھا ہے کہ:
”واقعۂ معراج ، ماہ رجب کی ستائیس تاریخ کو ہوا جیسا کہ حرمین شریفین میں اسی پر عمل ہوتا ہے“ ۔
ایک قول یہ ہے کہ معراج ربیع الآخر میں ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ رمضان میں ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ شوال میں ہوئی ۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد اقوال ہیں ۔ (تبیان القرآن)
حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ”تفسیر خزائن العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ :
”مہینہ میں اختلاف ہے مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی “۔
شب معراج کی عبادت :
شب بیداری کے استحباب اور اس کے فوائد و برکات پر علماے اسلام کا کوئی اختلاف نہیں ، حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا حکم قرآن کریم اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے ۔

صحابہ کرام ، تابعین عظام اور پاکان امت کی مبارک زندگی شب بیداری میں گزری ۔ احادیث کریمہ میں جہاں شب قدر اور شب براءت کے فضائل وارد ہیں وہیں شب معراج کے فضائل بھی بیان ہوئے ہیں ۔ ذیل میں چند احادیث کریمہ درج کیے جا رہے ہیں ۔ ملاحظہ ہوں :
(۱) حضرت انس بن مالک -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک -ﷺ- نے فرمایا :
”ماہ رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے حق میں سو سال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے ۔ تو جو شخص اس رات بارہ رکعات پڑھتا ہے اس طرح کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھے ، ہر رکعت کے بعد قعدہ کرے ، اخیر میں سلام پھیرے ، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد سو مرتبہ ”سبحان اللہ ، والحمد للہ ولا إلہ واللہ أکبر“  پڑھے ، سو مرتبہ استغفار کرے ، سو مرتبہ آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پاک پڑھے اور اپنے حق میں دنیا و آخرت کی بھلائی سے متعلق جو چاہے دعا کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا ۔ البتہ کسی نافرمانی والے کام میں دعا کرے تو یہ دعا مقبول نہیں ہوگی“ ۔ (شعب الایمان ، جامع الکبیر)
(۲) حضرت سلمان فارسی  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ آقا کریم -ﷺ- نے فرمایا :
”ماہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایک ایسی رات ہے جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات قیام کیا تو گویا اس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال شب بیداری کی ۔ اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے “۔ (شعب الایمان ، جامع کبیر ، در منثور ، کنز العمال)
(۳) حضرت انس  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے کہ حضور -ﷺ- نے ارشاد فرمایا :
”جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے ۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے ۔ جو رجب میں ایک دن روزہ رکھے گا ؛ اللہ رب العزت اسے اس نہر سے سیراب فرمائے گا“ ۔ (شعب الایمان)
(۴) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- فرماتی ہیں کہ:
”رجب وہ باعظمت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا ثواب کئی گنا زیادہ دیتا ہے ۔ جس نے اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھا تو گویا اس  نے سال بھر کے روزے رکھے ۔ اور جس نے اس ماہ میں سات دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔ اور جس نے اس ماہ میں آٹھ دن روزے رکھے ؛ اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ اور اس ماہ میں دس دن کے روزے رکھنے والا ، اللہ سے جو مانگے گا ؛ وہ اسے عطا کرے گا ۔ اور جو اس ماہ پندرہ روزے رکھے تو آسمانی منادی آواز دیتا ہے : اے روزے دار ! تیرے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ۔ اب نیک عمل شروع کر دو ۔ جو زیادہ اچھے عمل کرے گا ؛ اسے زیادہ ثواب دیا جائے گا“ ۔ (ما ثبت  بالسنۃ بحوالہ شعب الایمان)
(۵) حضرت ابو ہریرہ  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے فرمایا کہ حضور -ﷺ- نے ارشاد فرمایا :
ماہ رجب کے ستائیسویں دن جو شخص روزہ رکھے اس کے لیے ساٹھ مہینے روزہ رکھنے کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق)
(۶) حضرت حسن بصری  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں کہ:
حضرت عبداللہ بن عباس  -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- ماہ رجب کے ستائیسویں دن معتکف ہو جاتے اور ظہر تک نماز پڑھتے رہتے ۔ جب نماز ظہر ادا فرماتے تو تھوڑا سا ہٹ کر چار رکعت نماز پڑھتے ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ فلق و ناس ایک ایک بار پڑھتے اور سورۂ قدر تین بار اور سورۂ اخلاص پچاس بار پڑھتے ۔ پھر نماز عصر تک دعا کرتے رہتے اور فرماتے :
”آج کے دن حضور -ﷺ- کا عمل ایسا ہی ہوتا“۔ (ایضا)
مذکورہ بالا تمام احادیث شریفہ سے یہ واضح ہوگیا کہ معراج کی رات ، عظمت و رفعت اور عبادت وریاضت والی رات ہے ۔ اس رات قیام کرنے والوں کے متعلق احادیث کریمہ میں بےشمار بشارتیں موجود ہیں ۔ ان عظیم بشارتوں کےہوتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابۂ کرام اس مقدس ومتبرک رات کو یوں ہی گزار دیے ہوں ؛ حالاں کہ وہ کامل طور پر اس آیت کریمہ کے مصداق ہیں :
((تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ)) (السجدۃ: ۳۲)
((اُن کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے  اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور اُمید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں)) (کنزالایمان)
اس لیے محض قیاس کا سہارا لے کر یہ کہنا کہ اس شب میں عبادت کرنا صحیح نہیں ؛ کیوں کہ یہ بدعت ہے ۔ آقا کریم -ﷺ- اور صحابہ کرام نے اس کا اہتمام نہیں کیا ، کسی صورت صحیح نہیں ؛ اس لیے کہ حضور -ﷺ- نے شب معراج ، سفر معراج سے قبل اور سفر معراج کے درمیان نماز ادا فرمائی ۔ براق پر تشریف رکھنے سے پہلے ، حضرت ام ہانی -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- کے گھر میں نماز ادا فرمائی ۔ اور بیت المقدس میں تمام انبیا -علیہم الصلاۃ والسلام- کی امامت فرمائی ۔ علاوہ ازیں اوپر حضرت عبداللہ بن عباس - رضی اللہ تعالیٰ عنہما- کی عبادت اور آپ کے ارشاد کا ذکر ہوا کہ آج کے دن حضور -ﷺ- کا عمل مبارک ایسا ہی ہوتا ۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس شب  عبادت کرنا آقا کریم -ﷺ- اور صحابہ کرام -رضی اللہ تعالیٰ عنہم- کی سنت ہے ؛ اس لیے ایسوں کو احتیاط سے کام لین

ا چاہیے ۔ اللہ رب العزت ایسے لوگوں کو ہدایت دے ۔ آمین۔
امکان غالب ہے کہ شب معراج ، اہتمام عبادت کے متعلق پیش کردہ احادیث کریمہ کا کوئی یہ کہہ کر انکار کر دے کہ یہ ضعیف ہیں ، مرجوح  ہیں ، لائق اعتبار نہیں ، صحیح اور راجح احادیث کریمہ پیش کیا جائے ؛ اس لیے اس کی وضاحت  ضروری ہے ۔
فضائل اعمال میں ضعیف احادیث شریفہ بھی لائق استناد:
محدثین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایتیں بھی لائق اعتبار وقابل احتجاج ہیں ۔ چناں چہ امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی دمشقی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ-فرماتے ہیں :
”و قد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف في فضائل الأعمال“ ۔ (شرح الأربعین للنوویۃ)
ترجمہ: ”علماے امت نے فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کو بالاتفاق جائز کہا ہے “۔
خلاصہ :
(۱) آقا کریم -ﷺ- کا معراج میں تشریف لے جانا قرآن کریم ، احادیث شریفہ اور اقوال امت سے ثابت ہے ۔
(۲) تاریخ معراج میں متعدد روایتوں کے باوجود علماے کرام نے ماہ رجب کی ستائیسویں شب کو راجح قرار دیا ہے ۔
(۳) شب معراج ، عبادت و ریاضت ، متعدد احادیث کریمہ ، سنت رسول -ﷺ- اور سنت صحابہ سے ثابت ہے ۔
(۴) میری معلومات میں ایسی کوئی روایت نہیں کہ حضرت عمر فاروق -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے معراج کے دن روزہ رکھنے والوں کے روزے توڑوائے ہوں ۔ اگر ایسی کوئی روایت ہے تو اسے بحوالہ پیش کیا جائے ؛ ان شاء اللہ اس کا بھی جواب دیا جائے گا ۔
باری تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور اسے نافع انام بنائے ۔ واللہ المستعان وعلیہ التکلان وصلی اللہ علی خیر الأنام وعلی آلہ و أصحابہ الکرام ۔
نوٹ :
اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے :
(۱) خزئن العرفان از حضرت علامہ نعیم الدین مرادآبادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(۲) تفسیر تبیان القرآن از علامہ غلام رسول سعیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(۳) معراج مصطفیٰ ﷺ از مفتی محمد خان قادری
(۴) شب معراج : فضائل وعبادت از مفتی ضیاء الدین نقشبندی
(۵) انوار البیان از علامہ انوار احمد قادری

۵؍رجب المرجب ۱۴۳۹ھ     عبدالقدوس مصباحی
۲۳؍مارچ ۲۰۱۸ء دارالعلوم فیض رضا ، شاہین نگر ، حیدرآباد ، تلنگانہ



Sunday, March 3, 2019

حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی حیات کے آئینے میں از عبدالقدوس مصباحی۔

حضرت خواجہ غریب نواز
اپنی حیات کے آئینے میں
  از : عبدالقدوس مصباحی
دارالعلوم فیض رضا ، شاہین نگر ، حیدرآباد ، تلنگانہ
نام و نسب :
معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ  ۔
معروف القاب :
سلطان الہند ، وارث النبی ، عطاے رسول ، خواجہ غریب نواز ۔
آپ نجیب الطرفین حسنی و حسینی سید زادے ہیں ، بارہویں پشت پر آپ کا شجرۂ نسب حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم سے جا ملتا ہے ۔
ولادت :
آپ ۵۳۷ھ؍۱۱۴۲ء میں سجستان یا سیستان کے معروف علاقے سِجزی میں پیدا ہوئے ، والدین کے زیر سایہ خراسان میں دینی وعلمی ماحول میں پروان چڑھے ، آپ کے والدین کریمین حد درجہ متقی وپرہیزگار تھے ، ان کی خصوصی تربیت نے بچپن ہی سے آپ کو لہو ولعب اور غیر مناسب عادات و اطوار سے دور رکھا ۔
حالات حمل بیان کرتے ہوئے آپ کی والدہ ماجدہ بیان کرتی ہیں کہ :
”جب معین الدین میرے شکم میں تھے تو میں اچھے اچھے خواب دیکھا کرتی ، گھر میں خوب خیر وبرکت کا نزول ہوتا تھا ، دشمن ، دوست بن گئے تھے ، ولادت کے وقت سارا مکان انوار الہی سے روشن تھا“۔
والدین کریمین :
آپ کے والد گرامی سید غیاث الدین حسن   جن کا شمار علاقے کےرؤسا میں ہوتا تھا ، جلیل القدر عالم دین ، حد درجہ متقی ، پرہیز گار اور نیکو کار تھے ، آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بھی نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھیں ، اکثر اوقات عبادت و ریاضت میں مشغول رہا کرتی تھیں ، جب آپ کی عمر پندرہ برس کی ہوئی تو آپ کے والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا ، وراثت میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی ، آپ نے اسی کو ذریعۂ معاش بنایا ، خود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اور درختوں کی آبیاری کرتے ۔
دنیا سے بے رغبتی اور حصول علم دین کے لیے سفر :
ایک دن حضرت خواجہ غریب نواز  باغ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مجذوب بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی   باغ میں تشریف لائے ، حضرت خواجہ نے ان کو سلام کیا ، دست بوسی کی اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بٹھایا ، انگور کا ایک خوشہ پیش کیا اور باادب دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گئے ، حضرت ابراہیم نے اپنے بغل سے کھلی نکالی اور چبا کر حضرت خواجہ کے منہ میں ڈال دی ، اسے کھاتے ہی حضرت خواجہ کے دل کی کیفیت بدل گئی اور دل ، دنیا اور دنیا والوں کی محبت سے بیزار ہو گیا ، چناں چہ حضرت خواجہ نے باغ اور اپنا سارا سامان فروخت کرکے اس کی ساری رقم رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کر دیا اور طلب حق کے راہ میں روانہ ہو گئے ، آپ سمرقند تشریف لائے اور حضرت سیدنا شرف الدین   کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تعلیمی سلسلہ شروع کیا ، پہلے قرآن کریم حفظ کیا ، پھر انھیں سے دیگر علوم حاصل کیے لیکن علمی تشنگی نہیں بجھی ؛ اس لیے بخارا تشریف لائے اور مشہور عالم دین حضرت مولانا حسام الدین   کی بارگاہ میں زانوے تلمذ تہ کیا اور چند عرصے میں تمام دینی علوم کی تکمیل فرمائی ۔
حضرت خواجہ عثمان ہارونی  سے بیعت :
ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں بخارا سے حجاز مقدس کا رخت سفر باندھا ، راستے میں جب نیشاپور کے نواحی علاقے ہارون سے آپ کا گزر ہوا اور مرد قلندر حضرت خواجہ عثمان ہارونی   کا شہرہ سنا توبارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست حق پر بیعت ہوئے ۔
مجاہدہ :
حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد ڈھائی سال تک حضرت خواجہ نے تزکیۂ باطن کے لیے سخت مجاہدہ کیا ، آپ کے مجاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی   فرماتے ہیں :
”خواجۂ بزرگ نے بڑے بڑے مجاہدات کیے ، آپ سات دن کے بعد پانچ مثقال کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر تناول فرماتے ، آپ کا لباس دو چادریں تھیں جس میں کئی کئی پیوند لگے رہتے ، پیوند لگانے کے لیے جس قسم کا کپڑا مل جاتا اسے چادر میں سی لیا کرتے“ ۔
سیر و سیاحت :
شیخ طریقت و مرشد کامل کے دست حق پرست پر بیعت ہونے کے بعد حضرت خواجہ کو اپنے مرشد طریقت سے اس قدر عقیدت و محبت ہو گئی کہ سایہ کی طرح مرشد گرامی کی بافیض صحبت کو لازم کر لیا ، جہاں بھی مرشد گرامی تشریف لے جاتے حضرت خواجہ آپ کا بستر خواب ، توشہ اور دیگر ضروری اشیا سر پر لادے ہوئے ہمراہ چلتے ، کامل بیس سال مرشد گرامی کی خدمت میں گزارے ، سیرو سیاحت کے دوران سیستان ، دمشق ، اوش، بدخشاں ، بغداد ، مکہ معظمہ ، مدینہ منورہ اور دیگر شہروں میں تشریف لے گئے اور وہاں کے صلحاے کرام ، صوفیاے عظام اور مشایخ کرام سے روحانی فیوض وبرکات حاصل کیے، سنجان میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ   سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، کوہ جودی پر غوث اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی   کی زیارت سے مستفیض ہوئے ، پانچ ماہ سات دن ایک حجرے میں مقیم رہ کر علوم باطنی کی تحصیل فرماتے رہے ، وہاں سے غوث پاک کے ہمراہ جیلان و بغداد کی سیر فرمائی جہاں شیخ ضیاء الدین اور شیخ شہاب الدین سہروردی سے صحبت رہی ، ہمدان میں محبوب سبحانی خواجہ وحد الدین کرمانی اور خواجہ یوسف ہمدانی سے ملاقات رہی ، حرمین شریفین میں مرشد کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی   نے کعبۃ اللہ شریف میں میزاب رحمت کے سایے تلے اپنے پیارے مرید حضرت خواجہ کے لیے دعا فرمائی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اللہ رب العزت کے حوالے کیا ، غیب سے ندا آئی :
”ہم نے معین الدین کو قبول کیا “۔
مرشد گرامی یہ آواز سن کر بہت مسرور ہوئے اور بارگاہ الہی میں شکر ادا کیا ، حج سے فراغت کے بعد مدینۃ الرسول ﷺ تشریف لائے تو حضرت خواجہ نے آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں سلام نیاز پیش کیا ، جواب ملا :
”وعلیک السلام اے سمندر اور جنگلوں کے قطب المشایخ “
جب یہ آواز آئی تو حضرت خواجہ نے فرمایا :
”کام مکمل ہو گیا“ ۔
خرقۂ خلافت و جانشینی :
جب روحانیت کے مرشد کامل نے حضرت خواجہ کو تلاش حق کے تمام مراحل طے کرا دیے تو بغداد میں آپ کو خرقۂخلافت اور جانشینی سے سرفراز کیا اور وہ تبرکات مصطفوی جو خانوادۂ چشت میں سلسلہ بہ سلسلہ چلے آ رہے تھے حضرت خواجہ کو عطا کیا ۔
حضرت خواجہ فرماتے ہیں :
مرشد کامل ، شیخ طریقت ، حضرت خواجہ عثمان ہارونی   نے فرمایا :
اے معین الدین ! میں نے یہ سب کام تیری تکمیل کے لیے کیا ہے ، تجھ کو اس پر عمل کرنا لازم ہے ، فرزند خلف وہی ہے جو اپنے ہوش گوش میں اپنے پیر کے ارشادات کو جگہ دے ، اپنے شجرے میں ان کو لکھے اور انجام کو پہنچائے تاکہ کل قیامت کے دن شرمندگی نہ ہو ، اس ارشاد کے بعد عصاے مبارک ، خرقہ ، نعلین اور مصلیٰ عنایت فرمایا ، پھر ارشاد فرمایا :
”یہ تبرکات ہمارے پیر طریقت قدس سرہ کی یاد ہیں جو آقا کریم ﷺ سے ہم تک پہنچے ہیں اور ہم نے تجھے دیے ہیں ، ان کو اسی طرح اپنے پاس رکھنا جس طرح ہم نے رکھا ، جس کو مرد پانا اسی کو ہماری یہ یادگار دینا ، خلق سے طمع نہ رکھنا ، آبادی سے دور ، مخلوق سے کنارہ کش رہنا  اور کسی سے کچھ طلب نہ کرنا“ ۔
یہ ارشاد فرمانے کے بعد پیر و مرشد نے حضرت خواجہ کو اپنے سینے سے لگایا ، سر اور آنکھ کو بوسہ دیا اور فرمایا :
”تجھ کو خدا کے سپرد کیا ، پھر عالم تحیر میں مشغول ہو گئے“۔
حضرت خواجہ اپنے مرشد گرامی کی بارگاہ میں اس قدر مقبول تھے کہ ایک مرتبہ مرشد گرامی نے فرمایا :
”میرا معین الدین اللہ عزوجل کا محبوب ہے ، مجھے اپنے مرید پر فخر ہے“۔
ہندوستان کا سفر :
ظاہری و باطنی علوم حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے آبائی وطن واپس تشریف لائے، ایک دن قسمت کا ستارہ چمکا ، حرمین طیبین کی حاضری نصیب ہوئی ، آپ مکہ معظمہ تشریف لائے ، کعبہ شریف کی زیارت سے شادکام ہوئے ، آپ کا معمول تھا کہ قیام مکہ کے دوران طواف کعبہ اور عبادت الہی میں مشغول رہتے ، ایک دن آپ یاد الہی میں مصروف تھے کہ غیب سے آواز آئی :
”اے معین الدین ! ہم تجھ سے خوش ہیں ، تجھے بخش دیا ، جو چاہے مانگ تاکہ عطا کروں “
یہ سن کر آپ حد درجہ خوش ہوئے اور عاجزانہ سر نیاز زمین پر رکھ دیا اور بارگاہ رب العزت میں عرض کیا :
”اے اللہ ! معین الدین کے مریدان سلسلہ کو بخش دے“
آواز آئی :
”اے معین الدین ! تو ہماری ملک ہے ، جو تیرے مرید اور تیرے سلسلہ میں قیامت تک مرید ہوں گے انھیں بخش دوں گا“ ۔
حج سے فراغت کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائے ، مدینہ میں آپ اکثر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ، یہاں تک کہ وہ ساعت سعید آ ہی گئی جب آقا کریم ﷺ کی بارگاہ سے یہ مژدۂ جاں فزا ملا :
”اے معین الدین ! تو میرے دین کا معین ہے ، میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی ، وہاں کفر وظلمت پھیلی ہوئی ہے ، تو اجمیر جا ، تیرے وجود سے ظلمت کفر دور ہوگی اور اسلام رونق پذیر ہوگا“۔
پھر خواب میں شرق سے غرب تک سارے عالم کو دکھا دیا گیا ، تمام بلاد و امصار آپ کی نگاہوں کے سامنے ہو گئے ، اجمیر ، وہاں کا قلعہ اور پہاڑیاں نظر آئیں ، سرکار نےایک انار عطا کرکے فرمایا :
”ہم تجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں“۔
اس بشارت کے بعد حضرت خواجہ ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے ، پہلے بغداد تشریف لائے ، جہاں وقت کے مشایخ عظام سے صحبتیں رہیں ، بغداد ہی میں ایک دن سلطان شمس الدین التمش کے حوالے سے آپ نے فرمایا :
”یہ لڑکا جب تک دہلی کا بادشاہ نہیں ہوگا خدا اسے دنیا سے نہیں اٹھا ئے گا“ ۔
پھر وہاں سے چشت ، خرقان ، کرمان ، استرآباد ، بخارا ، تبریز ، اصفہان اور ہرات ہوتے ہوئے سبزہ وار پہنچے ، یہاں کا حاکم یادگار محمد تعصب پرست شیعہ تھا جو ترش مزاجی اور بداخلاقی میں مشہور تھا ، حضرت خواجہ نے اس پر نگاہ کرم ڈالی ، جس کے سبب وہ اپنے امرا کے ساتھ بدعقیدگی سے تائب ہوا اور آپ کے دست حق پر بیعت بھی ہوا ، چند ایام حضرت خواجہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کرلی ، حضرت خواجہ نے اسے اپنا خرقہ عطا فرمایا ۔
پھر وہاں سے بلخ ہوتے ہوئے سمرقند تشریف لائے ، جہاں خواجہ ابواللیث سمرقندی کے مکان کے قریب ایک مسجد تعمیر ہو رہی تھی ، ایک شخص کو سمت قبلہ پر اعتراض تھا ، وہ لوگوں سے بحث ومباحثہ میں مصروف تھا ، کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھا ، حضرت خواجہ نے بھی سمجھایا مگر وہ نہ مانا تو آپ نے اس کا منہ کعبہ کی طرف کرکےکہا :
سامنے دیکھ کیا نظر آ رہا ہے ؟
اس نے کہا :
”خانہ کعبہ نظر آ رہا ہے“۔
حضرت خواجہ کی ادنیٰ توجہ سے سمرقند سے مکہ تک تمام حجابات اٹھ گئے اور ایک بیدار بخت نے کعبہ شریف کی زیارت کر لی ۔
وہاں سے غزنی ، لاہور اور سمانا ہوتے ہوئے دہلی تشریف لائے اور راج محل کے سامنے قیام فرمایا ، جہاں آپ کے اخلاق حسنہ اور سادہ و مؤثر نصیحتوں سے متاثر ہوکر کھانڈے راو کے کچھ آدمی اور بہت سے راج پوت اسلام میں داخل ہوئے ، پھر آپ خلق خدا کی ہدایت کے لیے اپنے خلیفہ حضرت  قطب الدین بختیار کاکی   کو دہلی میں چھوڑ کر اجمیر کے لیے روانہ ہوگئے اور ۵۸۷ھ؍۱۱۹۱ء میں اجمیر پہنچے ، اس وقت یہاں کا راجہ پرتھوی راج چوہان تھا جسے راے پتھورا بھی کہا جاتا تھا ۔
جب حضرت خواجہ کی اجمیر  میں آمد ہوئی تو ہندوستان کا عجب حال تھا ، ہر طرف کفر و شرک کا دور دورا تھا ، ہندوستان کے سرکش اور مغرور لوگ اکثر خدائی کا دعویٰ کرتے تھے اور خداے بزرگ و برتر کے شریک بنتے ، پتھروں ، درختوں ، جانوروں ، چوپایوں اور گائے کے گوبر تک کو پوجتے تھے ، کفر کی ان تاریکیوں میں ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے تھے ۔
حضرت خواجہ نے جب اجمیر کی سنگلاخ وادیوں میں چشمۂ رشد وہدایت جاری کرنا چاہا اور ہزاروں سالہ پرانی مشرکانہ مذہبیت اور جاہلانہ تصورات کے بت ٹوٹنے لگے اور آپ کی باطل شکن کرامتوں کا ظہور ہونے لگا تو پرتھوری راج کو اپنے ایوان سلطنت کی بنیادیں متزلزل نظر آنے لگیں ، اس نے حق کی آواز دبانے اور روحانی کرشموں کا چراغ گل کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں سوچا لیکن اس کی ساری تدبیریں تار عنکبوت کی نذر ہو گئیں ، جب پرتھوی راج کی ماں کو حضرت کی آمد ، اونٹوں کے بیٹھے رہ جانے ، اناساگر کے خشک ہوجانے اور جے پال کے شعبدوں کی ناکامی کا حال معلوم ہوا تو اس نے پرتھوی راج سے کہا :
”یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں ، میں نے بارہ سال پہلے کہا تھا ، اب تم اس سے ہرگز مباحثہ و مجادلہ نہ کرنا ؛ اس لیے کہ تمھارے لیے کوئی مقابلہ سود مند نہ ہوگا ، تم اس کی تعظیم و توقیر کرنا “۔
حضرت خواجہ کے باطنی تصرفات اور مؤثر کرامات  نے باشندگان اجمیر کو کافی متاثر کیا ، عوام و خواص کی کثیر تعداد شرک وبت پرستی سے تائب ہو کر اسلام سے مشرف ہوئی ، دن بہ دن حضرت کے ارادت مندوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا ، حضرت نے انا ساگر کی قیام گاہ ترک فرمائی اور اپنے خدام کے ساتھ شہر اجمیر میں اس مقام پر سکونت اختیار کی جہاں اس وقت درگاہ شریف ہے ۔
خلفا :
حضرت خواجہ کے صاف وشفاف چشمۂ شیریں سے اکتساب فیض کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے ، چند معروف خلفا کے اسماے گرامی درج ذیل ہیں :
(۱) خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (۲) خواجہ فخرا لدین چشتی (۳) خواجہ حمیدالدین ناگوری (۴) خواجہ وجیہ الدین ہرات (۵) خواجہ برہان الدین اجمیر (۶) خواجہ احمد اجمیر (۷) خواجہ عبداللہ جوگی جےپال (۸) خواجہ صدرالدین کرمانی (۹) خواجہ شیخ علی سنجری (۱۰) خواجہ یادگار سبزداری ۔
تصانیف :
عام طور پر حضرت خواجہ ایک روحانی مقتدیٰ اور صاحب کشف وکرامت ولی ، بحر معرفت کے شناور اور مبلغ ومصلح کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ، حالاں کہ آپ کی ذات علم ظاہر وباطن کا حسین سنگم تھی ، علوم ومعارف اور زہدوتقویٰ کے بلند مرتبہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ میں بھی کمال رکھتے تھے ، آپ صاحب طرز مصنف اور بلند پایہ شاعر بھی تھے ، جس پر آپ کی تصانیف شاہد ہیں ، مگر افسوس کی مرور زمانہ نے آپ کے رشحات قلم کے بہت بڑے ذخیرے پر پردہ ڈال دیا ہے ، لیکن جو ذخیرے زمانے سے محفوظ ہیں وہ علم تصوف وسلوک کا گنجینہ ہیں جن سے آپ کی علمی وتصنیفی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے ، ذیل میں چند تصانیف کا ذکر کیا جاتا ہے :
(۱)انیس الارواح : یہ کتاب فارسی زبان میں ہے ، جس میں حضرت خواجہ نے اپنے پیرو مرشد کے ارشادات گرامی تحریر فرمائے ہیں ، یہ کتاب تربیت اخلاق اور علم معرفت کے باب میں خاص اہمیت رکھتی ہے ۔
(۲)کشف الاسرار : یہ بھی فارسی زبان میں تصوف کے موضوع پر ایک ذخیرہ ہے ۔
(۳) کنزالاسرار : یہ کتاب آپ نے اپنے پیرو مرشد کے حکم پر قیام دہلی کے دروان سلطان شمس الدین التمش کی تعلیم وتلقین اور تہذیب اخلاق کے لیے تالیف فرمائی ، یہ کتاب رموز معرفت اور تعلیم اخلاق کا گراں قدر خزانہ ہے ۔
(۴)رسالہ تصوف منظوم : یہ کتاب فارسی نظم میں ہے ۔
(۵) دیوان معین : یہ کتاب حمد ونعت اور مناجات و منظومات پر مشتمل ہے ۔
ارشادات :
آپ کی مجالس رشدوہدایت ، تعلیم وتلقین ، تربیت اخلاق اور تہذیب نفس کی درس گاہ ہوا کرتی تھیں ، خاص خاص موقعوں پر حضرت خواجہ نے جو ہدایات فرمائیں انھیں آپ کے خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی   نے دلیل العارفین میں یکجا فرمایا ، یہ کتاب آج بھی رشدوہدایت کا سرچشمہ ہے ، یہاں آپ کے چند ارشادات کو ذکر کیا جا رہا ہے :
(۱) قبرستان میں عمدہ کھانا کھانا یا پانی پینا گناہ کبیرہ ہے ، جو عمدہ کھائے وہ ملعون اور منافق ہے ؛ کیوں کہ قبرستان مقام عبرت ہے ، نہ کہ جائے حرص وہوا ۔
(۲)اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بلا وجہ ستایا جائے ، اس سے خدا اور رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں ۔
(۳)جب اللہ کا نام سنے یا کلام اللہ سنے اور اس کا دل نرم نہ ہو اور ہیبت الہی سے اس کا اعتقاد وایمان زیادہ  نہ ہو تو گناہ کبیرہ ہے ۔
(۴) پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے :
(۱) والدین کے چہرے کو دیکھنا۔
(۲) کلام مجید کا دیکھنا۔
(۳) کسی  بزرگ عالم کا چہرہ عزت واحترام سے دیکھنا۔
(۴) خانہ کعبہ کے دروازے کی زیارت کرنا اور کعبہ شریف کو دیکھنا۔
(۵)اپنے پیرومرشد کے چہرے کی طرف دیکھنا اور خدمت میں مصروف رہنا۔
(۵)کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے ، مرد کو چاہیے کہ احکام الہی بجا لانے میں کمی نہ کرے ، پھر جو چاہے گا مل جائے گا ۔
(۶)جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کر دےگا ۔
(۷)رات کے تین حصے کرے :
پہلا حصہ نماز میں گزارے ،دوسرا حصہ تہجد میں گزارے ، یہ چار سلام سے ادا کرے اور جس قدر قرآن شریف یاد ہو پڑھے ، پھر تھوڑی دیر سو جائے ، پھر اٹھ کر تازہ وضو کرے اور صبح کاذب تک یاد الہی میں مشغول رہے ۔
(۸) جس نے خود کو پہچان لیا اور وہ خلق سے دور نہ بھاگے تو سمجھ لو کہ اس میں کوئی نعمت نہیں ۔
(۹) نیکوں کی صحبت ، نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت ، کار بد سے بہتر ہے ۔
(۱۰) دینا میں سب سے بہتر تین اشخاص ہیں :
(۱) وہ عالم جو اپنے علم سے بات کہے
(۲) جو حرص نہ رکھے
(۳) وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف وتوصیف کرے۔
(۱۱) محبت میں صادق وہ ہے جو خویش واقربا سے قطع تعلق کرکے اللہ ورسول سے تعلق پیدا کرے ، محب وہ شخص ہے جو کلام الہی کے حکم پر چلے اور حب الہی میں صادق ہو۔
(۱۲) گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو رسوا کرنا ۔
(۱۳) اگر قیامت کے دن کوئی چیز بہشت میں پہنچائےگی تو وہ ہے زہد نہ کہ علم ۔
اوصاف :
حضرت خواجہ کو والدین کریمین کا صدقہ ملا تھا ، آپ بھی والدین کی طرح نہایت متقی ، پرہیزگار اور نیکو کار تھے ، پوری رات عبادت الہی میں مصروف رہتے ، یہاں تک کہ عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے ، قرآن کریم سے اس قدر عقیدت تھی کہ دن میں دو قرآن پاک مکمل فرما لیا کرتے ، خوف خدا اس قدر غالب تھا کہ آپ ہمیشہ کانپتے رہتے ، خلق خدا کو خوف خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتے :
”اگر تم زیر خاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ“ ۔
سادگی کا عالم یہ تھا کہ لباس مبارک صرف دو چادریں تھیں ، جن میں کئی کئی پیوند لگے ہوتے ، آپ پڑوسیوں کا بہت خیال رکھتے ، ان کی خبر گیری فرماتے ، اگر کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازے میں ضرور تشریف لے جاتے ، آپ کے حلم وبردباری ، عفو ودرگزر ، جود وسخا اور دیگر اخلاق حسنہ سے متاثر ہو کر لوگ عمدہ اخلاق اور پاکیزہ صفات کے پیکر بنے اور آپ کے دست پاک پر تقریباً نوے لاکھ غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
اولاد وامجاد :
حضرت خواجہ نے دو شادیاں کیں ، پہلی شادی ۵۹۰ھ میں ایک راجہ کی لڑکی سے کی ، جسے آپ کے مرید حاکم قلعہ بہٹلی نے ایک جہاد میں گرفتار کیا اور اسے آپ کی بارگاہ میں پیش کیا ، آپ نے قبول فرمایا ، اس نے اسلام قبول کیا ، آپ نے اس کا نام امۃ اللہ رکھا ۔
دوسری شادی ۶۲۰ھ میں سید وجیہ الدین مشہدی کی بیٹی بی بی عصمت اللہ سے کیا ۔
ان دونوں بیویوں سے ایک صاحب زادی اور تین فرزند پیدا ہوئے جن کے اسماے گرامی یہ ہیں :
(۱) سید ضیاء الدین (۲) سید فخر الدین (۳) حافظہ بی بی جمال
وفات :
۶؍رجب المرجب ۶۳۳ھ ؍۱۶؍مارچ ۱۲۳۶ء دوشنبہ کی رات عشا کی نماز کے بعد کمرے میں تشریف لے گئے ، دروازہ اندر سے بند کر لیا ، خدام کو تاکید فرمائی کہ یہاں کوئی نہ آئے ، خدام پوری رات حجرہ کے دروازہ پر حاضر رہے ، ساری رات عالم وجد میں پاؤں پٹکنے کی آواز سنتے رہے ، آخر شب یہ آواز آنی بند ہو گئی ، جب صبح صادق ہوئی اور نماز فجر کے لیے خادموں نے دستک دی اور دروازہ نہیں کھلا تو خدام نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ آفتاب ولایت کا تابندہ ستارہ غروب ہو چکا ہے اور روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے اور آپ کی پیشانی مبارک پر یہ غیبی تحریر ثبت ہے :
”ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ“
حضرت کی وفات اہل اجمیر کے لیے عظیم سانحہ تھی ، ہزاروں ارادت مند بہ چشم نم جنازہ میں شریک ہوئے ، خواجہ فخر الدین نے نماز جنازہ پڑھائی اور اسی حجرہ میں دفن کیا گیا۔

ابر رحمت ان کی مرقد پہ گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
نوٹ :
اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے :
(۱) مرآۃ الاسرار از حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی قدس سرہ (۲) سلطان الہند خواجہ غریب نواز از ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی (۳) ہند اور پاکستان کے اولیا از مفتی شوکت علی فہمی (۴) فیضان خواجہ غریب نواز از دعوت اسلامی

۱۴؍جمادی الاخریٰ ۱۴۳۹ھ         عبدالقدوس مصباحی
۳؍ مارچ ۲۰۱۸ء   دارالعلوم فیض رضا ، شاہین نگر ، حیدرآباد، تلنگانہ