🌹درس الحديث الشريف🌹
حامدا ومصليا ومسلما
بسم الله الرحمن الرحيم
حديث نمبر:(١)
عن أَبي هريرة -رضي الله عنه- عن النَّبيّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ:
((مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلمَةٌ لأَخِيه، مِنْ عِرضِهِ أَوْ مِنْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ قبْلَ أنْ لا يَكُونَ دِينَار وَلا دِرْهَمٌ؛ إنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلمَتِهِ، وَإنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيهِ))
[رياض الصالحين، باب تحريم الظلم الخ، رقم الحديث:٢١٠]
[ترجمه] حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے ارشاد فرمایا:
((جس شخص نے اپنے کسی بھائی پر اس کی عزت وغیرہ کے متعلق کوئی ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے مطابق وہی لے لیا جائے گا، اور اگر نامہ اعمال میں کوئی نیک عمل نہ ہو تو اس کے مظلوم ساتھی کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیے جائیں گے))
No comments:
Post a Comment