🌹درس القرآن الكريم🌹
حامدا ومصليا ومسلما
بسم الله الرحمن الرحيم:
آيت كريمہ:
«بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ»
ترجمه كنزالعرفان:
«اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والا»
تفسير صراط الجنان:
{بسم الله: اللہ کے نام سے شروع}
علامہ احمد صاوی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں: قرآن مجید کی ابتدا "بسم الله" سے اس لیے کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس کی پیروی کرتے ہوئے ہر اچھے کام کی ابتدا "بسم الله" سے کریں۔
[صاوی،الفاتحۃ، ۱/۱۵]
اور حدیث پاک میں بھی اچھے اور اہم کام کی ابتدا "بسم الله" سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، چناں چہ حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے، حضور پرنور -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- نے ارشاد فرمایا:
"جس اہم کام کی ابتدا "بسم الله الرحمن الرحیم" سے نہ کی گئی تو وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔"
[کنز العمال، کتاب الاذ کار، الباب السابع فی تلاوۃ القران وفضائلہ، الفصل الثانی۔۔۔الخ، ۱/۲۷۷، الجزءالاول، الحدیث:٢٤٨٨]
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ ہر نیک اور جائز کام کی ابتدا "بسم الله الرحمن الرحیم" سے کریں، اس کی بہت برکت ہے۔
{الرحمن الرحیم: جو بہت مہربان رحمت والا ہے}
امام فخر الدین رازی -رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ- فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو "رحمن" اور "رحیم" فرمایا تو یہ اس کی شان سے بعید ہے کہ وہ رحم نہ فرمائے۔ مروی ہے کہ ایک سائل نے بلند دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ مانگا تو اسے تھوڑا سا دے دیا گیا، دوسرے دن وہ ایک کلہاڑا لے کر آیا اور دروازے کو توڑنا شروع کر دیا۔اس سے کہا گیا کہ تو ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: تو دروازے کو اپنی عطا کے لائق کر یا اپنی عطا کو دروازے کے لائق بنا۔ اے ہمارے اللہ! -عزوجل- رحمت کے سمندروں کو تیری رحمت سے وہ نسبت ہے جو ایک چھوٹے سے ذرے کو تیرے عرش سے نسبت ہے اور تو نے اپنی کتاب کی ابتدا میں اپنے بندوں پر اپنی رحمت کی صفت بیان کی؛ اس لیے ہمیں اپنی رحمت اور فضل سے محروم نہ رکھنا۔"
[تفسیر کبیر، الباب الحادی عشر فی بعض النکت المستخرجۃ الخ، ۱/۱۵۳]
"بسم الله" سے متعلق چند شرعی مسائل:
علماے کرام نے "بسم اللہ" سے متعلق بہت سے شرعی مسائل بیان کیے ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
[1] جو "بسم الله" ہر سورت کے شروع میں لکھی ہوئی ہے، یہ پوری آیت ہے اور جو "سورۂ نمل" کی آیت نمبر 30/ میں ہے؛ وہ اس آیت کا ایک حصہ ہے۔
[2] "بسم الله" ہر سورت کے شروع کی آیت نہیں ہے بلکہ پورے قرآن کی ایک آیت ہے جسے ہر سورت کے شروع میں لکھ دیا گیا تاکہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے، اسی لیے سورت کے اوپر امتیازی شان میں "بسم الله" لکھی جاتی ہے، آیات کی طرح ملا کر نہیں لکھتے اور امام، جہری نمازوں میں "بسم الله" آواز سے نہیں پڑھتا، نیز حضرت جبریل -علیہ السلام- جو پہلی وحی لائے؛ اس میں "بسم الله" نہ تھی۔
[3] تراویح پڑھانے والے کو چاہیے کہ وہ کسی ایک سورت کے شروع میں "بسم الله" آواز سے پڑھے؛ تاکہ ایک آیت رہ نہ جائے۔
[4] تلاوت شروع کرنے سے پہلے "اعوذ بالله من الشیطن الرجیم" پڑھنا سنت ہے، لیکن اگر شاگرد، استاد سے قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں۔
[5] سورت کی ابتدا میں "بسم الله" پڑھنا سنت ہے؛ ورنہ مستحب ہے۔
[6] اگر "سورۂ توبہ" سے تلاوت شروع کی جائے تو "اعوذ باللہ" اور "بسم الله" دونوں کو پڑھا جائے، اور اگر تلاوت کے دوران سورۂ توبہ آ جائے تو "بسم الله" پڑھنے کی حاجت نہیں۔
No comments:
Post a Comment